العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى الْعِرَاقِ فَقَالَ لَهُ كَعْبُ الأَحْبَارِ لاَ تَخْرُجْ إِلَيْهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّ بِهَا تِسْعَةَ أَعْشَارِ السِّحْرِ وَبِهَا فَسَقَةُ الْجِنِّ وَبِهَا الدَّاءُ الْعُضَالُ .
الترجمة الإنجليزية
Malik related to me that he heard that Umar ibn al-Khattab wanted to go to Iraq, and Kabal-Ahbar said to him, "Do not go there, amir al- muminin. There is nine-tenths of sorcery there and it is the place of the rebellious jinn and the disease which the doctors are unable to cure."
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اشارہ کر تے تھے مشرق کی طرف اور فرماتے تھے فتنہ اسی طرف سے ہے فتنہ اسی طرف سے ہے جہاں سے شیطان کی چوٹی نکلتی ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے عر اق کو جا نا چاہا تو کعت احبار نے کہا آپ وہاں نہ جائیے اے امیر المو میین کیونکہ اس ملک میں جادو کے دس حصوں میں سے نو حصے ہیں اور جتنے شریر اور خبیث جن میں وہاں موجود ہیں اور وہاں ایک بیماری ہے جو لا علاج ہے ۔
