العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَارٌ سَكَنَّاهَا وَالْعَدَدُ كَثِيرٌ وَالْمَالُ وَافِرٌ فَقَلَّ الْعَدَدُ وَذَهَبَ الْمَالُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعُوهَا ذَمِيمَةً " .
الترجمة الإنجليزية
Malik related to me that Yahya (upon him be peace) ibn Said said, "A woman came to the Beloved Messenger of Allah and said, 'Beloved Messenger of Allah, we moved into a house when our number was great and our wealth was abundant. Now our number has dwindled and the wealth has gone.' The Beloved Messenger of Allah said, 'Leave it as blameworthy.' "
الترجمة الأردية
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک عورت آئی رسول اللہ کے پاس، بولی یا رسول اللہ ایک گھر تھا جس میں ہم رہتے ہیں ہماری گنتی بھی زیادہ تھی اور مال بھی تھا، پھر گنتی بھی کم ہوگئی یعنی لوگ مر گئے اور مال میں بھی نقصان ہوا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چھوڑ دے تو اس گھر کو جبکہ تو اس کو برا جانتی ہے ۔
