العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ.
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) said that he heard Malik say, "The sunna with us about the crime of slaves is that the hand is not cut off for any harm that a slave causes a man, or something he pilfers, or something guarded which he steals, or hanging dates he cuts down or ruins, or steals. That is against the slave's person and does not exceed the price of the slave whether it is little or much. If his master wishes to give the value of what the slave took or ruined, or pay the blood-price for the injury, he pays it and keeps his slave. If he wishes to surrender him, he surrenders him, and none of that is against him. The master has the option in that."
الترجمة الأردية
حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک آدمی اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے اور اسے خیال بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں پہنچے گی تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس سے ملاقات کے دن تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور بے شک آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے اور اسے خیال بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں پہنچے گی تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس سے ملاقات کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔
