العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ لاَ رِبًا فِي الْحَيَوَانِ وَإِنَّمَا نُهِيَ مِنَ الْحَيَوَانِ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ الْمَضَامِينِ وَالْمَلاَقِيحِ وَحَبَلِ الْحَبَلَةِ . وَالْمَضَامِينُ بَيْعُ مَا فِي بُطُونِ إِنَاثِ الإِبِلِ وَالْمَلاَقِيحُ بَيْعُ مَا فِي ظُهُورِ الْجِمَالِ . قَالَ مَالِكٌ لاَ يَنْبَغِي أَنْ يَشْتَرِيَ أَحَدٌ شَيْئًا مِنَ الْحَيَوَانِ بِعَيْنِهِ إِذَا كَانَ غَائِبًا عَنْهُ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَآهُ وَرَضِيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُدَ ثَمَنَهُ لاَ قَرِيبًا وَلاَ بَعِيدًا . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لأَنَّ الْبَائِعَ يَنْتَفِعُ بِالثَّمَنِ وَلاَ يُدْرَى هَلْ تُوجَدُ تِلْكَ السِّلْعَةُ عَلَى مَا رَآهَا الْمُبْتَاعُ أَمْ لاَ فَلِذَلِكَ كُرِهَ ذَلِكَ وَلاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ مَضْمُونًا مَوْصُوفًا .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Ibn Shihab that Said ibn al- Musayyab said, "There is no usury in animals. There are three things forbidden in animals:al-madamin, al-malaqih and habal al-habala. Al- madamin is the sale of what is in the wombs of female camels. Al- malaqih is the sale of the breeding qualities of camels" (i.e. for stud). Malik said, "No one should buy a specified animal when it is concealed from him or in another place, even if he has already seen it, very recently or not so recently, and was pleased enough with it to pay its price in cash." Malik said, "That is disapproved of because the seller makes use of the price and it is not known whether or not those goods are found to be as the buyer saw them or not. For that reason, it is disapproved of. There is no harm in it if it is described and guaranteed."
الترجمة الأردية
سعید بن مسیب نے کہا حیوان میں ربا نہیں ہے بلکہ حیوان میں تین بیعیں نا درست ہیں ایک مضامیں کی دوسرے ملا قیح کی تیسے حبل الحبلہ کی مضامیں وہ جانور جو مادہ کے شکم میں ہیں ملاقیح وہ جانور جو رن کے پشت میں ہیں حبل الحبلہ کا بیان ابھی ہو چکا ہے ،۔ کہا مالک نے معین جانور کی بیع جب وہ غائب ہو خواہ نزدیک ہو یا دور درست نہیں ہے۔ اگرچہ مشتری (خریدنے والا) اس جانور کو دیکھ چکا ہو اور پسند کرچکا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) سے دام لے کر نفع اٹھائے گا۔ اور مشتری (خریدنے والا) کو معلوم نہیں وہ جانور صحیح سالم جس طور سے اس نے دیکھا تھا ملے یا نہ ملے البتہ اگر غیر معین جانور کو اوصاف بیان کرکے بیچے تو کچھ قباحت نہیں ۔
