العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ إِنَّ الأَمَةَ لَهَا الْخِيَارُ مَا لَمْ يَمَسَّهَا . قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ مَسَّهَا زَوْجُهَا فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَهِلَتْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فَإِنَّهَا تُتَّهَمُ وَلاَ تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنَ الْجَهَالَةِ وَلاَ خِيَارَ لَهَا بَعْدَ أَنْ يَمَسَّهَا .
الترجمة الإنجليزية
ahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said that a female slave who was the wife of a slave and then was set free, had the right of choice as long as he did not have intercourse with her. Malik said, "If her husband has intercourse with her and she claims that she did not know, she still has the right of choice. If she is suspect and one does not believe her claim of ignorance, then she has no choice after he has had intercourse with her."
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ لونڈی اگر غلام کے نکاح میں ہو پھر آزاد ہو جائے تو اس کو اختیار ہوگا آزادی کے بعد جب تک اس کا شوہر اس اس سے جماع نہ کرے ۔ کہا مالک نے اگر خاوند نے آزادی کے بعد اس سے جماع کیا اور لونڈی نے یہ کہا کہ مجھ کو یہ اختیار کا مسئلہ معلوم نہیں تھا تو عذر اس کا مسموع نہ ہوگا اور اس کو اختیار نہ رہے گا۔
