العربية (الأصل)
996 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وعُثْمَانَ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ، ثُمَّ حُدِّثَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ؛ فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَسَأَلَهُ؛ فَقَالَ: نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الأَرْبِعَاءِ وَبِشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Dates for dates, wheat for wheat, barley for barley, salt for salt — like for like, hand to hand. Whoever gives more or takes more has engaged in usury, except when the types differ."
الترجمة الأردية
نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کھیتوں کو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی عہدِ خلافت میں کرایہ پر دیتے تھے۔ پھر سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے”کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا“، (یہ سن کر) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے”کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے“، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے عہد میں ہم اپنے کھیتوں کو اس پیداوار کے بدل جو نالیوں پر ہو اور تھوڑی گھاس کے بدل دیا کرتے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 996]
