العربية (الأصل)
953 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ: حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي قَالَ: لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ، وَأَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا
الترجمة الإنجليزية
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (peace be upon him) said to the couple who performed li'an: "Your reckoning is with Allah. One of you is a liar. You have no claim over her." The husband said: "O Messenger of Allah, what about my wealth (i.e., the dowry)?" He said: "You have no wealth. If you spoke the truth about her, the dowry was in exchange for what you made lawful of her. If you lied about her, then you are even further from getting it back."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا:”تمہارا حساب اللہ کے یہاں ہو گا، تم میں سے ایک تو یقینا جھوٹا ہے، تمہارے (یعنی شوہر کے) لیے اسے (بیوی کو) حاصل کرنے کا اب کوئی راستہ نہیں ہے“۔ شوہر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا مال؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اب وہ تمہارا مال نہیں رہا، اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا تھا تو وہ اس کے بدلے میں ہے کہ تم نے اس کی شرمگاہ اپنے لیے حلال کی تھی اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تب تو اور زیادہ تجھ کو کچھ نہ ملنا چاہیے“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللعان/حدیث: 953]
