العربية (الأصل)
949 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ: أَفْتِنِي فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ بَعْدَ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً؛ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الأَجَلَيْنِ قُلْتُ أَنَا(وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي(يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ)فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ غُلاَمَهُ كُرَيْبًا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا فَقَالَتْ: قُتِلَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةِ، وَهِيَ حُبْلَى، فَوَضَعَتْ بَعْدَ مَوْتِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَخُطِبَتْ، فَأَنْكَحَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ خَطَبَهَا
الترجمة الإنجليزية
Abu Salamah narrated: A man came to Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) while Abu Hurayrah was sitting with him, and asked: "Give me a ruling regarding a woman who gave birth forty days after her husband's death." Ibn Abbas said: "She waits the longer of the two periods." Abu Salamah said: "I said: 'And those who are pregnant, their term is until they give birth' (al-Talaq: 4)." Abu Hurayrah said: "I agree with my nephew (Abu Salamah)." Then they sent word to Umm Salamah, who confirmed that Subay'ah al-Aslamiyyah gave birth shortly after her husband died, and the Messenger of Allah (peace be upon him) permitted her to marry. Thus Ibn Abbas withdrew his opinion.
الترجمة الأردية
ابو سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آنے والے نے پوچھا کہ آپ مجھے اس عورت کے متعلق مسئلہ بتائیے جس نے اپنے شوہر کی وفات کے چار مہینے بعد بچہ جنا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جس کا خاوند فوت ہو وہ عدت کی دو مدتوں میں جو مدت لمبی ہو اس کی رعایت کرے، میں نے عرض کیا کہ (قرآن مجید میں تو ان کی عدت کا یہ حکم ہے)﴿حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے﴾[سورة الطلاق: 4]، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی اس مسئلہ میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہی ہوں (ان کی مراد ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے تھی)، آخر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے، ام المومنین نے بتایا کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر (سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ) شہید کر دیے گئے تھے، وہ اس وقت حاملہ تھیں، شوہر کی موت کے چالیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر ان کے پاس نکاح کا پیغام پہنچا اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کا نکاح کر دیا، ابوالسنابل رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس پیغامِ نکاح بھیجنے والوں میں تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 949]
