العربية (الأصل)
932 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا، فَأَتَى علَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: جَابِرٌ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: مَا شَأْنُكَ قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ؛ فَنَزَلَ يَحْجُنُهُ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ قَالَ: ارْكَبْ فَرَكِبْتُ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَزَوَّجْتَ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا قَالَ: أَفَلاَ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ قُلْتُ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ؛ قَالَ: أَمَّا إِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ثُمَّ قَالَ: أَتَبِيعُ جَمَلَكَ قُلْتُ: نَعَمْ فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ قَالَ: آلانَ قَدِمْتَ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَدَعْ جَمَلَكَ فَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ؛ فَأَمَرَ بِلاَلاً أَنْ يَزِنَ لَهُ أُوقِيَّةً، فَوَزَنَ لِي بِلاَلٌ فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى وَلَّيْتُ، فَقَالَ: ادْعُ لِي جَابِرًا قُلْتُ الآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ قَالَ: خُذْ جَمَلَكَ، وَلَكَ ثَمَنُهُ
الترجمة الإنجليزية
A'ishah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is no marriage without a guardian."
الترجمة الأردية
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ایک غزوہ (ذات الرقاع یا تبوک) میں تھا، میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا، اتنے میں میرے پاس نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے اور فرمایا:”جابر!“میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! حاضر ہوں۔ فرمایا:”کیا بات ہوئی؟“میں نے کہا کہ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ہے، چلتا ہی نہیں، اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلماپنی سواری سے اترے اور میرے اسی اونٹ کو ایک ٹیڑھے منہ کی لکڑی سے کھینچنے لگے (یعنی ہانکنے لگے) اور فرمایا:”اب سوار ہو جا۔“چنانچہ میں سوار ہو گیا، اب تو یہ حال ہوا کہ مجھے اسے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے برابر پہنچنے سے روکنا پڑ جاتا تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”جابر! تو نے شادی بھی کر لی ہے؟“میں نے عرض کیا: جی ہاں، دریافت فرمایا:”کسی کنواری لڑکی سے کی ہے یا بیوہ سے؟“میں نے عرض کیا کہ میں نے تو ایک بیوہ سے کر لی ہے، فرمایا:”کسی کنواری لڑکی سے کیوں نہ کی کہ تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی؟“(سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بھی کنوارے تھے) میں نے عرض کیا کہ میری کئی بہنیں ہیں (اور میری ماں کا انتقال ہو چکا ہے) اس لیے میں نے پسند کیا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جو انہیں جمع رکھے، ان کے کنگھا کرے اور ان کی نگرانی کرے، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اچھا! اب تم گھر پہنچ کر خیر و عافیت کے ساتھ خوب مزے اڑانا۔“اس کے بعد فرمایا:”کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے؟“میں نے عرض کیا: جی ہاں، چنانچہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک اوقیہ چاندی میں خرید لیا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممجھ سے پہلے ہی (مدینہ) پہنچ گئے تھے اور میں دوسرے دن صبح کو پہنچا، پھر ہم مسجد آئے تو رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلممسجد کے دروازے پر ملے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”کیا ابھی آئے ہو؟“میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا:”پھر اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھو۔“میں اندر گیا اور نماز پڑھی، اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ چاندی تول دیں، انہوں نے ایک اوقیہ چاندی جھکتی ہوئی (یعنی تھوڑی سی زیادہ) تول دی، میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جابر کو ذرا بلاؤ۔“میں نے سوچا کہ شاید اب میرا اونٹ پھر مجھے آپصلی اللہ علیہ وسلمواپس کریں گے حالانکہ اس سے زیادہ ناگوار میرے لیے اور کوئی چیز نہیں تھی، چنانچہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہی فرمایا:”یہ اپنا اونٹ لے جاؤ اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرضاع/حدیث: 932]
