العربية (الأصل)
927 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هذِهِ زَوْجَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلاَ تُزَعْزِعُوهَا وَلاَ تُزَلْزِلُوهَا، وَارْفُقُوا، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعٌ، كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلاَ يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ
الترجمة الإنجليزية
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) said to A'ishah: "A young handsome foster-son who has reached puberty enters upon you. I would not like such a person to enter upon me." A'ishah replied: "Do you not have an example in the Messenger of Allah? The wife of Abu Hudhayfah said: 'O Messenger of Allah, Salim enters upon me and he is a man, and I see Abu Hudhayfah is displeased.' The Messenger of Allah said: 'Breastfeed him and you become unlawful for him and what Abu Hudhayfah feels in his heart will go away.' She came back and said: 'I breastfed him and what was in Abu Hudhayfah's heart went away.'"
الترجمة الأردية
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زوجہ مطہرہ ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو زور زور سے حرکت نہ دینا بلکہ آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ جنازہ کو لے کر چلنا، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آپ کی وفات کے وقت آپ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں، آٹھ کے لیے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے باری مقرر کر رکھی تھی لیکن ایک کی باری نہیں تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرضاع/حدیث: 927]
