العربية (الأصل)
920 صحيح حديث أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: فَأَفْعَلُ مَاذَا قُلْتُ: تَنْكِحُ؛ قَالَ: أَتُحِبِّينَ قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرَكَنِي فِيكَ أُخْتِي قَالَ: إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ قَالَ: ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ
الترجمة الإنجليزية
A'ishah (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Breastfeeding that makes marriage unlawful is that which is given to a suckling infant (within the first two years)."
الترجمة الأردية
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ ابوسفیان کی صاحبزادی (غرہ یا درہ یا حمنہ) کو چاہتے ہیں؟ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر میں اس کے ساتھ کیا کروں گا؟“میں نے عرض کیا کہ اس سے آپ نکاح کر لیں، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا تم اسے پسند کرو گی؟“میں نے عرض کیا کہ میں کوئی تنہا تو ہوں نہیں (بلکہ میری دوسری سوکنیں ہیں ہی) اور میں اپنی بہن کے لیے یہ پسند کرتی ہوں کہ وہ بھی میرے ساتھ آپ کے تعلق میں شریک ہو جائے، اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے (کیوں کہ دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں نہیں رکھا جا سکتا)“، میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے (زینب بنت ابی سلمہ سے) نکاح کا پیغام بھیجا ہے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لڑکی کے پاس؟“میں نے کہا کہ جی ہاں، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”واہ واہ! اگر وہ میری ربیبہ (بیوی کے سابق شوہر سے لڑکی) نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، مجھے اور اس کے والد ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، دیکھو! تم آئندہ میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرضاع/حدیث: 920]
