العربية (الأصل)
887 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ، فَقُلْنَا: أَلاَ نَخْتَصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، فَرَخَّصَ لَنَا بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ؛ ثُمَّ قَرَأَ(يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ)
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: We used to go on military expeditions with the Prophet (peace be upon him) without women, and we said: "Shall we not castrate ourselves?" He forbade us from that and then permitted us to marry a woman temporarily in exchange for a garment. Then he recited: "O you who believe, do not forbid the good things that Allah has made lawful for you."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ہو کر جہاد کیا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں، اس پر ہم نے عرض کیا کہ ہم خود کو خصی کیوں نہ کر لیں؟ لیکن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں اس سے روک دیا اور اس کے بعد ہمیں اس کی اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے (یا کسی بھی چیز) کے بدلے میں نکاح کر سکتے ہیں، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:﴿اے ایمان والو! اپنے اوپر ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے جائز کی ہیں۔﴾[سورة المائدة: 87][اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 887]
