العربية (الأصل)
884 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ بِمِنًى، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَخَلَيَا فَقَالَ عُثْمَانُ: هَلْ لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ فِي أَنْ نُزَوِّجَكَ بِكْرًا تُذَكِّرُكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللهِ أَنْ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى هذَا، أَشَارَ إِلَيَّ، فَقَالَ: يَا عَلْقَمَةُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالْصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abdullah ibn Mas'ud, from Alqamah: I was with Abdullah when Uthman met him at Mina and said: "O Abu Abd al-Rahman, I have a matter to discuss with you." They withdrew privately. Uthman said: "O Abu Abd al-Rahman, shall we marry you to a young virgin who will remind you of what you used to know?" When Abdullah saw that he had no need for this, he gestured to me and said: "O Alqamah!" I came to him while he was saying: "As for what you said, the Prophet (peace be upon him) said to us: 'O young men, whoever among you can afford to marry, let him do so, for it lowers the gaze and guards chastity. And whoever cannot, let him fast, for it will be a shield for him.'"
الترجمة الأردية
علقمہ بن قیس رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ملاقات کی اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ پھر وہ دونوں تنہائی میں چلے گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کر دیں جو آپ کو گزرے ہوئے ایام یاد دلا دے؟ چونکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے اس لیے انہوں نے مجھے اشارہ کیا اور کہا: علقمہ (ادھر آؤ)۔ میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ (سیدنا عثمان) کا یہ مشورہ ہے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہم سے فرمایا تھا:”اے نوجوانو! تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیے اور جو طاقت نہ رکھتا ہو اسے روزہ رکھنا چاہیے کیونکہ یہ خواہشِ نفسانی کو توڑ دے گا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 884]
