العربية (الأصل)
864 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأبِي طَلْحَةَ الْتَمِسْ غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ، وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، قَدْ حَازَهَا، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّى وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَدَعَوْتُ رِجَالاً فَأَكَلُوا، وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ؛ قَالَ: هذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said to Abu Talhah: "Find me a boy from among your boys to serve me." Abu Talhah set out with me riding behind him. I used to serve the Messenger of Allah (peace be upon him) whenever he stopped. I used to hear him frequently saying: "O Allah, I seek refuge in You from worry and grief, from incapacity and laziness, from miserliness and cowardice, and from the burden of debt and being overpowered by men." I continued to serve him until we returned from Khaybar, and he brought Safiyyah bint Huyayy, having chosen her. I would see him making a partition behind him with a cloak or garment, then seating her behind him. When we reached al-Sahba', he prepared Hays (a dish of dates, butter, and cheese) on a leather mat. He sent me to invite people, and they ate — and that was his wedding feast for her. Then he continued traveling until Uhud came into view. He said: "This is a mountain that loves us and we love it." When he looked down upon Madinah, he said: "O Allah, I declare sacred what lies between its two mountains, as Ibrahim declared Makkah sacred. O Allah, bless them in their Mudd and their Sa'."
الترجمة الأردية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:”اپنے یہاں کے بچوں میں کوئی بچہ تلاش کر لاؤ جو میرے کام کر دیا کرے“چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لائے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجب بھی کہیں پڑاؤ کرتے میں آپ کی خدمت کرتا، میں سنا کرتا تھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبکثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے:«اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ»”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے، رنج سے، عجز سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“(سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں اس وقت سے برابر آپ کی خدمت کرتا رہا یہاں تک کہ ہم خیبر سے واپس ہوئے اور سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں پسند فرمایا تھا، میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے کپڑے سے پردہ کیا اور پھر انہیں وہاں بٹھایا، آخر جب ہم مقامِ صہبا میں پہنچے تو آپ نے دستر خوان پر حیس (کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ کا ملیدہ) بنایا، پھر مجھے بھیجا اور میں لوگوں کو بلا لایا، پھر سب لوگوں نے اسے کھایا، یہی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف سے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی دعوتِ ولیمہ تھی، پھر آپ روانہ ہوئے اور جب احد دکھائی دیا تو آپ نے فرمایا:”یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں“اس کے بعد جب مدینہ نظر آیا تو فرمایا:”اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو اسی طرح حرمت والا علاقہ بناتا ہوں جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر بنایا تھا، اے اللہ! اس کے رہنے والوں کو برکت عطا فرما، ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت فرما۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 864]
