العربية (الأصل)
859 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ افْتَتَحَ مَكَّةَ: لاَ هِجْرَةَ[ص:78]وَلكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، فَإِنَّ هذَا بَلَدٌ حَرَّمَ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّموَاتِ وَالأَرْضَ، وَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ َلأحَدٍ قَبْلِى، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلاَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ قَالَ: قَالَ: إِلاَّ الإِذْخِرَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both): The Prophet (peace be upon him) said on the day of the Conquest of Makkah: "There is no migration (Hijrah from Makkah) now, but there is jihad and intention. When you are called to mobilize, then mobilize. Indeed, this is a city that Allah made sacred on the day He created the heavens and the earth, and it is sacred by the sanctity of Allah until the Day of Resurrection. Fighting in it was not made lawful for anyone before me, and it was made lawful for me only for a short period of the day. It is sacred by the sanctity of Allah until the Day of Resurrection. Its thorns are not to be cut, its game is not to be frightened, its lost property is not to be picked up except by one who will announce it, and its fresh herbage is not to be cut." Al-Abbas said: "O Messenger of Allah, except the Idhkhir (a fragrant plant), for it is used by our goldsmiths and for our houses." He said: "Except the Idhkhir."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فتحِ مکہ کے دن فرمایا:”اب ہجرت فرض نہیں رہی لیکن (اچھی) نیت اور جہاد اب بھی باقی ہے، اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو تیار ہو جانا۔ اس شہر (مکہ) کو اللہ تعالیٰ نے اسی دن حرمت عطا کی تھی جس دن اس نے آسمان اور زمین پیدا کیے، اس لیے یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حرمت کی وجہ سے محترم ہے، یہاں کسی کے لیے بھی مجھ سے پہلے لڑائی جائز نہیں تھی اور مجھے بھی صرف ایک دن گھڑی بھر کے لیے (فتح مکہ کے دن اجازت ملی تھی)، اب ہمیشہ یہ شہر اللہ کی قائم کی ہوئی حرمت کی وجہ سے قیامت تک کے لیے حرمت والا ہے، پس نہ اس کا کانٹا کاٹا جائے، نہ اس کے شکار ہانکے جائیں اور اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو کوئی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے۔“سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر (ایک گھاس) کی اجازت تو دیجیے کیونکہ یہ یہاں کے کاریگروں اور گھروں کے لیے ضروری ہے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اذخر کی اجازت ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 859]
