العربية (الأصل)
807 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: الصَّلاَةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَة، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا
الترجمة الإنجليزية
Narrated Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with them both): "The Messenger of Allah (peace be upon him) departed from Arafah. When he reached the mountain pass, he dismounted, relieved himself, and performed ablution, but did not perform it thoroughly. I said: 'The prayer, O Messenger of Allah.' He said: 'The prayer is ahead of you.' He rode on, and when he reached Muzdalifah, he dismounted, performed ablution thoroughly, and the Iqamah was called. He prayed Maghrib. Then everyone made their camels kneel at their camping spots. Then the Iqamah was called for Isha, and he prayed it, without praying anything between the two prayers."
الترجمة الأردية
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممیدانِ عرفات سے واپس ہوئے، جب گھاٹی میں پہنچے تو آپصلی اللہ علیہ وسلماتر گئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (پہلے) پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا، تب میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کا وقت (آ گیا)؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نماز تمہارے آگے ہے“(یعنی مزدلفہ چل کر پڑھیں گے)، جب مزدلفہ میں پہنچے تو آپ نے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر جماعت کھڑی کی گئی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی جگہ بٹھلایا، پھر عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 807]
