العربية (الأصل)
775 صحيح حديث عَائِشَةَ وَأَسْمَاءَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قَدْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ رضي الله عنه، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةٌ ثُمَّ عُمَرُ رضي الله عنه، مِثْلُ ذلِكَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ رضي الله عنه، فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةٌ ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي، الزبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةٌ ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذلِكَ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةٌ ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذلِكَ ابْنُ عُمَرَ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا عُمْرَةً وَهذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ فَلاَ يَسْأَلُونَهُ وَلاَ أَحَدٌ مِمَّنْ مَضى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَيْءٍ حَتَّى يَضَعُوا أَقْدَامَهُمْ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لاَ تَبْتَدِئَانِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ لاَ تَحِلاَّنِ وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ بِعُمْرَةٍ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا
الترجمة الإنجليزية
Narrated Aishah and Asma' (may Allah be pleased with them): Muhammad ibn Abdur-Rahman ibn Nawfal al-Qurashi asked Urwah ibn al-Zubayr, who said: "The Prophet (peace be upon him) performed Hajj, and Aishah told me that the first thing he did when he arrived was to perform ablution, then perform Tawaf of the House, and it was not an Umrah. Then Abu Bakr (may Allah be pleased with him) performed Hajj, and the first thing he did was Tawaf of the House, and it was not an Umrah. Then Umar (may Allah be pleased with him) did the same. Then Uthman (may Allah be pleased with him) performed Hajj, and I saw that the first thing he did was Tawaf of the House, and it was not an Umrah. Then Mu'awiyah and Abdullah ibn Umar did the same. Then I performed Hajj with my father, al-Zubayr ibn al-Awwam, and the first thing he did was Tawaf of the House, and it was not an Umrah. Then I saw the Muhajirun and Ansar doing the same, and it was not an Umrah. The last person I saw do this was Ibn Umar, and he did not convert it to an Umrah. Ibn Umar is among them, yet they do not ask him, nor any of those who have passed — none of them would begin with anything until they set foot for Tawaf of the House, and they would not come out of Ihram. I saw my mother and my aunt — when they arrived, the first thing they did was Tawaf of the House, and they did not come out of Ihram. My mother told me that she, her sister, al-Zubayr, and so-and-so assumed Ihram for Umrah, and when they touched the Corner (of the Ka'bah), they came out of Ihram."
الترجمة الأردية
محمد بن عبدالرحمن بن نوفل قرشی رحمہ اللہ نے سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے حج کیا تھا اور مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق خبر دی کہ جب آپصلی اللہ علیہ وسلممکہ مکرمہ آئے تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے وضو کیا پھر کعبہ کا طواف کیا، یہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکا عمرہ نہیں تھا، اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور آپ نے بھی سب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا جب کہ یہ آپ کا بھی عمرہ نہیں تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا، میں نے دیکھا کہ سب سے پہلے آپ نے بھی کعبہ کا طواف کیا، آپ کا بھی یہ عمرہ نہیں تھا، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا زمانہ آیا (اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا)، پھر میں نے اپنے والد سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی حج کیا، انہوں نے بھی پہلے جو کام کیا وہ یہی بیت اللہ کا طواف تھا جب کہ یہ عمرہ نہیں ہوتا تھا، اس کے بعد مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کو بھی میں نے دیکھا کہ وہ بھی اسی طرح کرتے رہے اور ان کا بھی یہ عمرہ نہیں ہوتا تھا، آخری ذات جسے میں نے اس طرح کرتے دیکھا وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی تھی، انہوں نے بھی عمرہ نہیں کیا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ابھی موجود ہیں لیکن ان سے لوگ اس کے متعلق پوچھتے نہیں، اسی طرح جو حضرات گزر گئے ان کا بھی مکہ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلا قدم طواف کے لیے اٹھتا تھا، پھر یہ بھی احرام نہیں کھولتے تھے، میں نے اپنی والدہ (سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا) اور خالہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کو بھی دیکھا کہ جب وہ آتیں تو سب سے پہلے طواف کرتیں اور یہ اس کے بعد احرام نہیں کھولتی تھیں، اور مجھے میری والدہ نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی بہن (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور فلاں فلاں کے ساتھ عمرہ کیا ہے، یہ سب لوگ حجر اسود کا بوسہ لیتے تو عمرہ کا احرام کھول دیتے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 775]
