العربية (الأصل)
773 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ عَنْ بَكْرٍ، أَنَّهُ ذَكَرَ لابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ(ابْنُ عُمَرَ): أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، قَالَ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ حَاجًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَ أَهْلَلْتَ فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمْسِكْ فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn Umar and Anas (may Allah be pleased with them): Bakr reported that he mentioned to Ibn Umar that Anas had told them that the Prophet (peace be upon him) assumed Ihram for both Umrah and Hajj. Ibn Umar said: "The Prophet (peace be upon him) assumed Ihram for Hajj, and we assumed Ihram with him. When we arrived in Makkah, he said: 'Whoever does not have a sacrificial animal, let him make it an Umrah.' The Prophet (peace be upon him) had a sacrificial animal with him. Ali ibn Abi Talib came to us from Yemen as a pilgrim, and the Prophet (peace be upon him) said: 'With what did you assume Ihram? For your family is with us.' He said: 'I assumed Ihram with the same as the Prophet (peace be upon him) assumed Ihram.' He said: 'Then remain as you are, for we have the sacrificial animal with us.'"
الترجمة الأردية
بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا، (تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا) نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے حج کا احرام باندھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج ہی کا احرام باندھا تھا، پھر ہم جب مکہ آئے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا کر لے (اور طواف اور سعی کر کے احرام کھول دے)“اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ قربانی کا جانور تھا، پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے لوٹ کر حج کا احرام باندھ کر آئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے دریافت فرمایا:”تم نے کس طرح احرام باندھا ہے؟ ہمارے ساتھ تمہاری زوجہ (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) بھی ہیں۔“انہوں نے عرض کیا: میں نے اس طرح کا احرام باندھا ہے جس طرح آپ نے باندھا ہو، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر اپنے احرام پر قائم رہو کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 773]
