العربية (الأصل)
756 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيُحْلِلْ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ قالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلاَّ بِعُمْرَةٍ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ، وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ ذلِكَ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّى؛ فَبَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ، مَكَانَ عُمْرَتِي، مِنَ التَّنْعِيمِ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Aishah (may Allah be pleased with her): "We went out with the Prophet (peace be upon him) during the Farewell Pilgrimage. Some of us assumed Ihram for Umrah, and some assumed Ihram for Hajj. When we arrived in Makkah, the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Whoever assumed Ihram for Umrah and did not bring a sacrificial animal may come out of Ihram. Whoever assumed Ihram for Umrah and brought a sacrificial animal should not come out of Ihram until he has slaughtered his sacrifice. And whoever assumed Ihram for Hajj should complete his Hajj.' She said: 'I menstruated and remained in that state until the Day of Arafah, having assumed Ihram only for Umrah. The Prophet (peace be upon him) ordered me to undo my hair, comb it, assume Ihram for Hajj, and abandon the Umrah. I did that until I completed my Hajj. Then he sent Abdur-Rahman ibn Abi Bakr with me and ordered me to perform Umrah from al-Tan'im in place of my Umrah.'"
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ حجۃ الوداع کے سفر میں نکلے، ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا، پھر ہم مکہ آئے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی (قربانی کا جانور) ساتھ نہ لایا ہو تو وہ حلال ہو جائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی بھی ساتھ لایا ہو تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہ ہوگا اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو تو اسے حج پورا کرنا چاہیے۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہوگئی اور عرفہ کا دن آ گیا، میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا، مجھے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے حکم دیا کہ:”میں اپنا سر کھول لوں، کنگھا کر لوں اور حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ چھوڑ دوں۔“میں نے ایسا ہی کیا اور اپنا حج پورا کر لیا، پھر میرے ساتھ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور مجھ سے فرمایا کہ:”میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کے عوض تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 756]
