العربية (الأصل)
725 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ، فَإِذَا كَانَ حِينَ يُمْسِى مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً تَمْضِي، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرَينَ، رَجَعَ إِلَى مَسْكَنِهِ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ؛ وَأَنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَأَمَرَهُمْ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ قَالَ: كُنْتُ أُجَاوِرُ هذِهِ الْعَشْرَ، ثُمَّ قَدْ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هذِهِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ، وَقَدْ أُرِيتُ هذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، فَابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَابْتَغُوهَا فِي كلِّ وِتْرٍ، وَقَدْ رَأَيْتَنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَأَمْطَرَتْ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، فَبَصُرَتْ عَيْنِي، نَظَرْتُ إِلَيْهِ انْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُمْتَلِيءٌ طينًا وَمَاءً
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Sa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (peace be upon him) used to observe i'tikaf in the middle ten days of Ramadan. One year he observed i'tikaf, and when the twenty-first night came — the night on the morning of which he would come out of i'tikaf — he said: "Whoever was observing i'tikaf with me, let him continue for the last ten days. I was shown this night, then I was made to forget it. I saw myself in the morning of it prostrating in water and clay. So seek it in the last ten days; seek it on every odd night." That night it rained, and the mosque had a roof of palm branches that leaked. I saw with my own eyes the Messenger of Allah (peace be upon him) with traces of water and clay on his forehead.
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمرمضان کے اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے جو مہینے کے بیچ میں پڑتا ہے، بیس راتوں کے گزر جانے کے بعد جب اکیسویں تاریخ کی رات آتی تو شام کو آپ گھر واپس آ جاتے، جو لوگ آپ کے ساتھ اعتکاف میں ہوتے وہ بھی اپنے گھروں کو واپس آ جاتے، ایک رمضان میں آپ جب اعتکاف کیے ہوئے تھے تو اس رات میں بھی (مسجد ہی میں) مقیم رہے جس میں آپ کی عادت گھر آ جانے کی تھی، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو کچھ اللہ پاک نے چاہا آپ نے لوگوں کو اس کا حکم دیا، پھر فرمایا:”میں اس (دوسرے) عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا لیکن اب مجھ پر یہ ظاہر ہوا ہے کہ اب اس آخری عشرہ میں مجھے اعتکاف کرنا چاہیے، اس لیے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے معتکف ہی میں ٹھہرا رہے اور مجھے یہ رات (شب قدر) دکھائی گئی لیکن پھر بھلوا دی گئی، اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ (کی طاق راتوں) میں تلاش کرو، میں نے (خواب میں) اپنے کو دیکھا کہ اس رات کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔“پھر اسی رات آسمان پر ابر ہوا اور بارش برسی، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے نماز پڑھنے کی جگہ پر (چھت سے) پانی ٹپکنے لگا، یہ اکیسویں کی رات کا ذکر ہے، میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ صبح کی نماز کے بعد واپس ہو رہے تھے اور آپ کے چہرہ مبارک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 725]
