العربية (الأصل)
691 صحيح حديث مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَحْمنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ، عَامَ حَجَّ، عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَة أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: هذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَأَنَا صَائمٌ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Mu'awiyah ibn Abi Sufyan, from Humayd ibn Abd al-Rahman: He heard Mu'awiyah ibn Abi Sufyan on the day of Ashura, on the pulpit, saying: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'This is the day of Ashura. Allah has not prescribed fasting on it for you, but I am fasting. Whoever wishes may fast, and whoever wishes may break his fast.'"
الترجمة الأردية
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے حج کے موقع پر عاشوراء کے دن منبر پر سنا، انہوں نے کہا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کدھر گئے؟ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے سنا:”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں ہے، لیکن میں روزے سے ہوں، اب جس کا جی چاہے روزہ رکھے (اور میری سنت پر عمل کرے) اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 691]
