العربية (الأصل)
632 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ الْمَائَةَ مِنَ الإبِلِ؛ فَقَالوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ أَنَسٌ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ قَالَ لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوو آرَائِنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَلَمْ يَقُولوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قرَيْشًا وَيَتْرُكُ الأَنْصَارَ، وَسُيُوفُنا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لأُعْطِي رِجَالاً حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحالِكُمْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ، خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ رَضِينَا فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَوْضِ قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Anas ibn Malik: Some people of the Ansar said to the Messenger of Allah (peace be upon him) — when Allah gave His Messenger the spoils from the Hawazin: He began distributing to men from Quraysh, giving each a hundred camels. They said: "May Allah forgive the Messenger of Allah! He gives to Quraysh and leaves us, while our swords are still dripping with their blood!" Anas said: The Messenger of Allah (peace be upon him) was told about their words. He sent for the Ansar and gathered them in a leather tent. When they assembled, the Messenger of Allah came and said: "What is this talk that has reached me from you?" The wise ones among them said: "As for the people of understanding among us, O Messenger of Allah, they said nothing. But some of our younger ones said: 'May Allah forgive the Messenger of Allah! He gives to Quraysh and leaves us, while our swords drip with their blood.'" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I give to men who are newly out of disbelief. Are you not pleased that the people go away with wealth while you return to your homes with the Messenger of Allah? By Allah, what you return with is better than what they return with." They said: "Indeed, O Messenger of Allah, we are pleased." He said: "You will find after me great selfishness. So be patient until you meet Allah and His Messenger at the Pool (of Kawthar)." They said: "We will be patient."
الترجمة الأردية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکو قبیلہ ہوازن کے اموال میں سے غنیمت دی اور آپ قریش کے بعض آدمیوں کو (تالیفِ قلب کی غرض سے) سو سو اونٹ دینے لگے تو بعض انصاری لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بخشش کرے، آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ ان کا خون ابھی تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے انصار کو بلایا اور انہیں چمڑے کے ایک ڈیرے میں جمع کیا، ان کے سوا کسی دوسرے صحابی کو آپ نے نہیں بلایا، جب سب انصاری لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبھی تشریف لائے اور دریافت فرمایا:”آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی وہ کہاں تک صحیح ہے؟“انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں جو عقل والے ہیں وہ تو کوئی ایسی بات زبان پر نہیں لائے ہیں، ہاں چند نو عمر لڑکے ہیں، انہوں نے ہی یہ کہا ہے کہ اللہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بخشش کرے، آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کے خون ٹپک رہے ہیں، اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ ابھی گزرا ہی ہے (اور ان کو دے کر ان کا دل ملاتا ہوں)، کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب دوسرے لوگ مال و دولت لے کر واپس جا رہے ہوں گے تو تم لوگ اپنے گھروں کو اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکو لے کر واپس جا رہے ہو گے؟ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ جو کچھ واپس جا رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے لوگ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے“، سب انصاریوں نے کہا: بے شک یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی اور خوش ہیں، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا:”میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسرے لوگوں کو مقدم کیا جائے گا، اس وقت تم صبر کرنا (دنگا فساد نہ کرنا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور اس کے رسول سے حوضِ کوثر پر“، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم سے صبر نہ ہو سکا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 632]
