العربية (الأصل)
582 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ؛ قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هذِهِ الآيَة(لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ)قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ(لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ)وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ للهِ؛ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ؛ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَخْ ذلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Anas: Abu Talhah was the wealthiest of the Ansar in Medina in palm trees. The dearest of his properties to him was Bayruha garden, which was opposite the mosque. The Messenger of Allah (peace be upon him) used to enter it and drink from its sweet water. When the verse was revealed: "You will never attain righteousness until you spend from what you love," Abu Talhah went to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, Allah says: 'You will never attain righteousness until you spend from what you love.' The dearest of my properties to me is Bayruha, and I give it as charity for Allah. I hope for its reward and to store it with Allah. So use it, O Messenger of Allah, as Allah shows you." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Well done! That is a profitable property! I have heard what you said, and I think you should distribute it among your relatives." Abu Talhah said: "I will do so, O Messenger of Allah." He distributed it among his relatives and cousins.
الترجمة الأردية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا، یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾[سورة آل عمران: 92]یعنی”تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو“یہ سن کر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے، اس لئے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لئے خیرات کرتا ہوں، اس کی نیکی اور اس کے ذخیرۂ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں، اللہ کے حکم سے جہاں آپ مناسب سمجھیں اسے استعمال کیجئے، راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”خوب یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے، یہ تو بہت ہی نفع بخش ہے اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے ڈالو“، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا، چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں کو دے دیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 582]
