العربية (الأصل)
574 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْخَيْلُ لِثَلاَثَةٍ: لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَأَطَالَ فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ أَرْوَاثُهَا وَآثَارُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ؛ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهِيَ وِزْرٌ عَلَى ذلِكَ وَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ: مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا إِلاَّ هذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفاذَّةُ(مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ)
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Horses are for three types of people: for one they are a reward, for another they are a covering (means of livelihood), and for another they are a burden. As for the one for whom they are a reward, it is the man who keeps them for the cause of Allah, tying them in a long rope in a pasture or garden. Whatever they eat or drink during that time counts as good deeds for him. If they break their rope and run across a hill or two, their tracks and droppings count as good deeds. If they pass by a river and drink from it — even though he did not intend to water them — it is recorded as good deeds. As for the one for whom they are a covering, it is the man who keeps them for self-sufficiency and decency, not forgetting Allah's right on their necks and backs. As for the one for whom they are a burden, it is the man who keeps them for showing off, rivalry, and hostility toward Muslims."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”گھوڑے کے مالک تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں: بعض لوگوں کے لیے وہ باعثِ اجر و ثواب ہیں، بعض کے لیے وہ صرف پردہ ہیں اور بعض کے لیے وبالِ جان ہیں؛ جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب کا باعث ہے یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کی نیت سے اسے پالتا ہے، پھر جہاں خوب چری ہوتی ہے یا (یہ فرمایا کہ) کسی شاداب جگہ اس کی رسی کو خوب لمبی کر کے باندھتا ہے (تاکہ چاروں طرف سے چر سکے) تو گھوڑا اس کی چری کی جگہ سے یا اس شاداب جگہ سے اپنی رسی کے ساتھ بندھا ہوا جو کچھ بھی کھاتا پیتا ہے مالک کو اس کی وجہ سے نیکیاں ملتی ہیں، اور اگر وہ گھوڑا اپنی رسی تڑا کر ایک زغن یا دو زغن لگائے تو اس کی لید اور اس کے قدموں کے نشانوں میں بھی مالک کے لیے نیکیاں ہیں، اور اگر وہ گھوڑا نہر سے گزرے اور اس میں سے پانی پی لے تو اگرچہ مالک نے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو پھر بھی اس سے اسے نیکیاں ملتی ہیں؛ دوسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر، دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبالِ جان ہے۔“اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھ پر اس جامع اور منفرد آیت﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾[سورة الزلزلة: 7-8]کے سوا ان کے متعلق اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ”جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور جو کوئی ذرہ برابر بھی برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے۔“”[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 574]
