العربية (الأصل)
560 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ أَسْوَدَ، رَجُلاً أَوِ امْرَأَةً، كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَمَاتَ، وَلَمْ يَعْلَمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْتِهِ، فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ ذَلِكَ الإِنْسَانُ قَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: أَفَلاَ آذَنْتُمُونِي فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، قِصَّتَهُ؛ قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ قَالَ: فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ
الترجمة الإنجليزية
Zaynab (may Allah be pleased with her) narrated: I went to visit Umm Habibah, the wife of the Prophet (peace be upon him), when her father Abu Sufyan died. She called for perfume containing khaluq (a yellowish scent) or something else, then she applied it to a girl and then wiped her own cheeks, saying: "By Allah, I have no need for perfume, but I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say on the pulpit: 'It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for a deceased person for more than three days, except for a husband — four months and ten days.'"
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کالے رنگ کا ایک مرد یا کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھی، اس کی وفات ہو گئی لیکن نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو اس کی وفات کی خبر کسی نے نہ دی، ایک دن آپصلی اللہ علیہ وسلمنے خود یاد فرمایا کہ”وہ شخص دکھائی نہیں دیتا“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! اس کا تو انتقال ہو گیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟“صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یہ یہ وجہ تھی (اس لیے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی) گویا لوگوں نے اس کو حقیر جان کر قابلِ توجہ نہیں سمجھا، لیکن آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے اس کی قبر بتا دو“، چنانچہ آپصلی اللہ علیہ وسلماس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 560]
