العربية (الأصل)
553 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، مَا وَجَبَتْ قَالَ: هذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَهذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الأَرْضِ
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (peace be upon him) said about the man who fell from his mount at Arafah: "Wash him with water and lotus leaves and shroud him in his two garments. Do not apply perfume to him and do not cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Judgment pronouncing the talbiyah."
الترجمة الأردية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کا گزر ایک جنازے پر ہوا، لوگ اس کی تعریف کرنے لگے (کہ کیا اچھا آدمی تھا) تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ سن کر فرمایا:«وَجَبَتْ»”واجب ہو گئی۔“پھر دوسرے جنازے کا گزر ہوا تو لوگ اس کی برائی کرنے لگے، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر فرمایا:«وَجَبَتْ»”واجب ہو گئی۔“اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا چیز واجب ہو گئی؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس میت کی تم لوگوں نے تعریف کی ہے اس کے لیے تو جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی کی ہے اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی، تم لوگ زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 553]
