العربية (الأصل)
532 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعُودُهُ، مَعَ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ، فَقَالَ: قَدْ قَضَى قَالُوا: لاَ يَا رَسُولَ اللهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا، فَقَالَ: أَلاَ تَسْمَعُونَ، إِنَّ اللهَ لاَ يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلاَ بِحُزْنِ الْقَلْبِ، وَلكِنْ يُعَذِّبُ بِهذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ، وَإِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ
الترجمة الإنجليزية
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When the bier is placed and the men carry it on their shoulders, if the deceased was righteous, it says: 'Take me forward quickly!' And if the deceased was not righteous, it says: 'Woe to it! Where are you taking it?' Everything hears its voice except man — and if man heard it, he would faint."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمعیادت کے لیے عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے۔ جب آپصلی اللہ علیہ وسلماندر گئے تو تیمار داروں کے ہجوم میں انہیں پایا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”کیا وفات ہو گئی؟“لوگوں نے کہا:”نہیں، یا رسول اللہ!“نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم(ان کے مرض کی شدت کو دیکھ کر) رو پڑے، لوگوں نے جب نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”سنو! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے آنسو نکلنے پر بھی عذاب نہیں کرے گا اور نہ دل کے غم پر، ہاں! اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے زبان کی طرف اشارہ کیا”(اور اگر اس زبان سے اچھی بات نکلے تو) یہ اس کی رحمت کا بھی باعث بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 532]
