العربية (الأصل)
524 صحيح حديث أَسْمَاءَ قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي، فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ قُلْتُ: آيَةٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْيُ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ، فَحَمِدَ اللهَ، عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلاَّ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي، حَتَّى الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنونَ فِي قُبُورِكُمْ مِثْلَ أَوْ قَرِيبَ(قَالَ الرَّاوِي: لاَ أَدْرِي أَيَّ ذلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ)مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، يُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ(لاَ أَدْرِي بِأَيِّهِمَا قَالَتْ أَسْمَاءُ)فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا، هُوَ مُحَمَّدٌ(ثَلاَثًا)؛ فَيُقَالُ: نَمْ صَالِحًا، قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُوقِنًا بِهِ؛ وَأَمَّا المُنَافِقُ أَوِ المُرْتَابُ(لاَ أَدْرِي أَيَّ ذلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ)فَيَقُولُ: لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ
الترجمة الإنجليزية
Asma' (may Allah be pleased with her) said: I came to A'ishah while she was praying. I said: "What is the matter with the people?" She pointed to the sky, and there the people were standing (in prayer). She said: "Subhan Allah (Glory be to Allah)." I said: "Is it a sign?" She nodded yes. So I stood until I was about to faint, and I began pouring water over my head. The Prophet (peace be upon him) praised and glorified Allah and said: "There is nothing that I had not been shown that I did not see in this standing of mine — even Paradise and the Fire. It was revealed to me that you will be tested in your graves."
الترجمة الأردية
سیدنا اسماء رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی سورج کو گہن لگا ہے) اتنے میں لوگ (نماز کے لئے) کھڑے ہو گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:«سُبْحَانَ اللَّهِ»”اللہ پاک ہے۔“میں نے کہا (کیا یہ گہن) کوئی (خاص) نشانی ہے؟ انہوں نے سر سے اشارہ کیا یعنی ہاں! پھر میں (بھی نماز کے لئے) کھڑی ہو گئی حتیٰ کہ مجھے غش آنے لگا، تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ پھر (نماز کے بعد) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور اس کی صفت بیان فرمائی، پھر فرمایا:”جو چیز مجھے پہلے دکھلائی نہیں گئی تھی آج وہ سب اس جگہ میں نے دیکھ لی، یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا اور مجھ پر وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے“، مثل یا قرب کا کون سا لفظ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا، میں نہیں جانتی، فاطمہ کہتی ہیں (یعنی) فتنہ دجال کی طرح (آزمائے جاؤ گے) کہا جائے گا (قبر کے اندر کہ)”تم اس آدمی کے بارے میں کیا جانتے ہو؟“تو جو صاحب ایمان یا صاحب یقین ہو گا، کون سا لفظ فرمایا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے، مجھے یاد نہیں۔ وہ کہے گا:”وہ محمد اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمہیں، جو ہمارے پاس اللہ کی ہدایت اور دلیل لے کر آئے تو ہم نے ان کو قبول کر لیا اور ان کی پیروی کی۔ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلمہیں۔“تین بار (اسی طرح کہے گا) پھر (اس سے) کہہ دیا جائے گا کہ”آرام سے سو جا، بے شک ہم نے جان لیا کہ تو محمدصلی اللہ علیہ وسلمپر یقین رکھتا تھا۔“اور بہرحال منافق یا شکی آدمی، میں نہیں جانتی کہ ان میں سے کون سا لفظ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا۔ تو وہ (منافق یا شکی آدمی) کہے گا کہ”جو لوگوں کو میں نے کہتے سنا میں نے (بھی) وہی کہہ دیا۔“(باقی میں کچھ نہیں جانتا)[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 524]
