العربية (الأصل)
518 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا رَأَى مَخِيلَةً فِي السَّمَاءِ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ، وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَإِذَا أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَّفَتْهُ عَائِشَةُ ذلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَدْرِي، لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمٌ(فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ)الآية
الترجمة الإنجليزية
A'ishah (may Allah be pleased with her) said: When the Prophet (peace be upon him) saw clouds forming in the sky, he would pace back and forth, enter and exit, and his face would change. When it rained, he would be relieved. A'ishah noticed this and he said: "I do not know — perhaps it is as the people (of Ad) said: 'When they saw it as a cloud coming toward their valleys...'" (46:24).
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمابر کا کوئی ایسا ٹکڑا دیکھتے جس سے بارش کی امید ہوتی تو آپ کبھی آگے آتے، کبھی پیچھے جاتے، کبھی گھر کے اندر تشریف لاتے، کبھی باہر آ جاتے اور چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، لیکن جب بارش ہونے لگتی تو پھر یہ کیفیت باقی نہ رہتی۔ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق آپ سے پوچھا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نہیں جانتا، ممکن ہے یہ بادل بھی ویسا ہی ہو جس کے بارے میں قوم عاد نے کہا تھا جب انہوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ چیز ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے۔“﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾[سورة الأحقاف: 24]۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 518]
