العربية (الأصل)
437 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى حَاجَتَهُ، غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ وُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ، وَقَدْ أَبْلَغَ، فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْقبُهُ، فَتَوَضَّأْتُ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلاَتُهُ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَآذَنَهُ بِلاَلٌ بِالصَّلاَةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأ؛ وَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا قَالَ كُرَيْبٌ(الرَّاوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ)وَسَبْعٌ فِي التَّابُوتِ، فَلَقَيْتُ رَجُلاً مِنْ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَكَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعَرِي وَبَشَرِي، وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn Abbas: I stayed the night at the house of Maymunah. The Prophet (peace be upon him) got up, performed a light ablution from a hanging waterskin, then stood and prayed. I got up and did the same, then stood at his left. He took my hand and moved me to his right. The Prophet prayed thirteen rak'ahs, then lay down and slept until he snored. Then Bilal called him for the prayer, and he prayed without performing ablution.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک رات سویا تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماٹھے اور آپ نے اپنی حوائجِ ضروریہ پوری کرنے کے بعد اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ دھوئے اور پھر سو گئے، اس کے بعد آپ کھڑے ہو گئے اور مشکیزہ کے پاس گئے اور آپ نے اس کا منہ کھولا، پھر درمیانہ وضو کیا (نہ مبالغہ کے ساتھ نہ معمولی اور ہلکے قسم کا، تین تین مرتبہ سے) کم دھویا البتہ پانی ہر جگہ پہنچا دیا، پھر آپ نے نماز پڑھی، میں بھی کھڑا ہوا اور آپ کے پیچھے ہی رہا کیونکہ میں اسے پسند نہیں کرتا تھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمیہ سمجھیں کہ میں آپ کا انتظار کر رہا تھا، میں نے بھی وضو کر لیا تھا، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمجب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا، آپ نے میرا کان پکڑ کر دائیں طرف کر دیا، میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم(کی اقتدا میں) تیرہ رکعت نماز مکمل کی، اس کے بعد آپ سو گئے اور آپ کی سانس میں آواز پیدا ہونے لگی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجب سوتے تھے تو آپ کی سانس میں آواز پیدا ہونے لگتی تھی، اس کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کی اطلاع دی، چنانچہ آپ نے (نیا وضو) کیے بغیر نماز پڑھی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماپنی دعا میں یہ کہتے تھے:«اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا»”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر، میری نظر میں نور پیدا کر، میرے کان میں نور پیدا کر، میرے دائیں طرف نور پیدا کر، میرے بائیں طرف نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔“کریب (راوی حدیث) نے بیان کیا کہ تابوت میں سات (نور) تھے، پھر میں نے سیدنا عباس کے ایک صاحبزادے سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے ان کے متعلق بیان کیا کہ”میرے پٹھے، میرا گوشت، میرا خون، میرے بال اور میرا چمڑا (ان سب میں نور بھر دے)“اور دو چیزوں کا اور ذکر کیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 437]
