العربية (الأصل)
20 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعاذٌ رَديفُهُ عَلى الرَّحْلِ، قَالَ: يا مُعاذُ بْنَ جَبَلٍ قَالَ: لَبَّيْكَ يا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: يا مُعاذُ قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ ثَلاثًا، قَالَ: ما مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلاَّ حَرَّمَهُ اللهُ عَلى النَّارِ قَالَ: يا رَسولَ اللهِ أَفَلا أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِروا قَالَ: إِذًا يَتَّكِلُوا وَأَخْبَرَ بِها مُعاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّما
الترجمة الإنجليزية
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) was riding with Mu'adh behind him on the saddle. He said: "O Mu'adh ibn Jabal." He replied: "At your service, O Messenger of Allah." He said: "O Mu'adh." He replied: "At your service, O Messenger of Allah" — three times. He said: "No one testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, sincerely from his heart, except that Allah makes the Fire forbidden for him." He said: "O Messenger of Allah, shall I not inform the people so they may rejoice?" He said: "Then they would rely upon it." Mu'adh disclosed this hadith near his death, fearing the sin of concealing knowledge.
الترجمة الأردية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پیچھے سواری پر سوار تھے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے معاذ!“انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (دوبارہ) فرمایا:”اے معاذ!“انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (سہ بارہ) فرمایا:”اے معاذ!“انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! تین بار ایسا ہوا۔ (اس کے بعد) آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلماللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو (دوزخ) کی آگ پر حرام کر دیتا ہے۔“(سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے) کہا: یا رسول اللہ! کیا اس بات سے لوگوں کو باخبر کر دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”(اگر تم یہ خبر سناؤ گے) تو لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور عمل چھوڑ دیں گے)۔“سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انتقال کے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں حدیثِ رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 20]
