العربية (الأصل)
1780 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي خَرِبِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ يَتَوكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لاَ تَسْأَلُوهُ، لاَ يَجِيءُ فِيهِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنَسْأَلَنَّهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ مَا الرُّوحُ فَسكَتَ فَقُلْتُ إِنَّهُ يُوحى إِلَيْهِ، فَقُمْتُ فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ، فَقَالَ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: While I was walking with the Prophet (peace be upon him) through the ruins of Medina, and he was leaning on a palm-leaf stalk, he passed by a group of Jews. Some of them said to one another: "Ask him about the soul." Others said: "Do not ask him, lest he tell you something you dislike." Some said: "We will certainly ask him." A man stood up and said: "O Abu al-Qasim, what is the soul?" He remained silent. I said: He is receiving revelation, so I stood still. When the revelation was over, he said: "And they ask you about the soul. Say: The soul is from the affair of my Lord. And you have not been given of knowledge except a little."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چل رہا تھا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکھجور کی چھڑی پر سہارا دے کر چل رہے تھے تو کچھ یہودیوں کا (ادھر سے) گزر ہوا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمسے روح کے بارے میں کچھ پوچھو، ان میں سے کسی نے کہا مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو (مگر) ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے، پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: اے ابو القاسمصلی اللہ علیہ وسلم! روح کیا چیز ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے خاموشی اختیار فرمائی، میں نے (دل میں) کہا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمپر وحی آ رہی ہے، اس لیے میں کھڑا ہو گیا۔ جب آپصلی اللہ علیہ وسلمسے (وہ کیفیت) دور ہو گئی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (قرآن کی یہ آیت جو اس وقت نازل ہوئی تھی)﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّى وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾[سورة الإسراء: 85]”(اے نبی!) تم سے یہ لوگ روح کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تمہیں علم کا بہت تھوڑا حصہ دیا گیا ہے۔“(اس لیے تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے) تلاوت فرمائی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1780]
