العربية (الأصل)
1592 صحيح حديث الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَسَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّكَ لاَ تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ يَقُولُ: أَمَّا بَعْدُ، أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحدَّثَنِي وَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسُوءَهَا وَاللهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ، عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated al-Miswar ibn Makhramah (may Allah be pleased with him): 'Ali proposed to the daughter of Abu Jahl. When Fatimah heard about it, she went to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said, "Your people claim that you do not get angry for the sake of your daughters. Here is 'Ali, about to marry the daughter of Abu Jahl." The Messenger of Allah (peace be upon him) stood up, and I heard him after bearing witness (the shahada) say, "As for what follows: I gave Abu al-'As ibn al-Rabi' (my daughter Zaynab) in marriage, and he spoke to me and was truthful. Indeed, Fatimah is a part of me, and I dislike that she be harmed. By Allah, the daughter of the Messenger of Allah and the daughter of the enemy of Allah shall never be joined under one man." So 'Ali abandoned the proposal.
الترجمة الأردية
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو (جو مسلمان تھیں) پیغامِ نکاح دیا، اس کی اطلاع جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی خاطر (جب انہیں کوئی تکلیف دے) کسی پر غصہ نہیں آتا۔ اب دیکھیے یہ علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے صحابہ کو خطاب فرمایا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو خطبہ دیتے سنا، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«أَمَّا بَعْدُ»”حمد و ثنا کے بعد! میں نے ابو العاص بن ربیع سے (زینب رضی اللہ عنہا کی) شادی کی (آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی) تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ فاطمہ بھی میرے (جسم کا) ایک ٹکڑا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہو سکتیں۔“چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1592]
