العربية (الأصل)
1571 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ تَطْعُنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ
الترجمة الإنجليزية
Narrated 'Abdullah ibn 'Umar (may Allah be pleased with them): The Prophet (peace be upon him) sent an expedition and appointed Usamah ibn Zayd as their commander. Some people criticized his leadership. The Prophet (peace be upon him) said, "If you criticize his leadership, you used to criticize the leadership of his father before him. By Allah, he was indeed worthy of leadership, and he was among the most beloved of people to me, and this one (Usamah) is among the most beloved of people to me after him."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بنایا، ان کے امیر بنائے جانے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر آج تم اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کر رہے ہو تو اس سے پہلے اس کے باپ کے امیر بنائے جانے پر بھی تم نے اعتراض کیا تھا اور خدا کی قسم وہ (زید رضی اللہ عنہ) امارت کے مستحق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ (اسامہ رضی اللہ عنہ) اب ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1571]
