العربية (الأصل)
1541 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَهِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَعَجِبْنَا لَهُ وَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هذَا الشَّيْخِ، يُخْبِرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِه وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً مِنْ أُمَّتِي لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، إِلاَّ خُلَّةَ الإِسْلاَمِ لا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِد خَوْخَةٌ إِلاَّ خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) sat on the pulpit and said, "A servant has been given a choice by Allah between being given the splendor of this world and what is with Him, and he has chosen what is with Him." Abu Bakr wept and said, "We would sacrifice our fathers and mothers for you." We were amazed at him, and the people said, "Look at this old man; the Messenger of Allah (peace be upon him) tells about a servant who was given a choice, and he says, 'We would sacrifice our fathers and mothers for you.'" But the Messenger of Allah (peace be upon him) was the one who had been given the choice, and Abu Bakr was the most knowledgeable among us about it. The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "The most generous of people to me with his companionship and his wealth is Abu Bakr. If I were to take a khalil (intimate friend) from my Ummah, I would have taken Abu Bakr, but the brotherhood of Islam is sufficient. Let no small door remain open in the mosque except the door of Abu Bakr."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممنبر پر بیٹھے، پھر فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لیے پسند کر لے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے (آخرت میں) اسے پسند کر لے، اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کر لیا۔“اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا:”ہمارے ماں باپ آپصلی اللہ علیہ وسلمپر فدا ہوں۔“(سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہمیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس رونے پر حیرت ہوئی، بعض لوگوں نے کہا: ان بزرگ کو دیکھیے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر فدا ہوں، لیکن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تھا:”لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر صرف ایک ابوبکر ہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا جانی بنا سکتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1541]
