العربية (الأصل)
1492 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ، فَلْيَخْدُمْكَ قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسّفَرِ فَوَاللهِ مَا قَالَ لِي، لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ صَنَعْتَ هذَا هكَذَا وَلاَ لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ: لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هذَا هكَذَا
الترجمة الإنجليزية
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: When the Messenger of Allah (peace be upon him) came to Madinah, Abu Talhah took me by the hand and brought me to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, Anas is a clever boy, let him serve you." So I served him during his travels and at home. He never said to me about anything I did: "Why did you do this?" or about anything I did not do: "Why did you not do this?"
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممدینہ تشریف لائے تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس لائے اور کہا: یا رسول اللہ! انس سمجھدار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ”یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا؟“اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ”یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا؟“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1492]
