العربية (الأصل)
1381 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: وُلِدَ لَرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ، وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَسَمَّيْتُهُ الْقَاسِمَ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ، وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحْسَنَتِ الأَنْصَارُ، سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنا قَاسِمٌ
الترجمة الإنجليزية
Jabir ibn Abdullah al-Ansari (may Allah be pleased with him) said: A boy was born to a man among us, and he named him al-Qasim. The Ansar said: "We will not call you Abu al-Qasim, and we will not honor you with that." The man went to the Prophet (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, a boy was born to me and I named him al-Qasim, but the Ansar said: 'We will not call you Abu al-Qasim, and we will not honor you with that.'" The Prophet (peace be upon him) said: "The Ansar have done well. Name yourselves with my name, but do not use my kunya, for I am al-Qasim (the distributor)."
الترجمة الأردية
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا، تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا، انصار کہنے لگے کہ ہم تمہیں ابوالقاسم کہہ کر کبھی نہیں پکاریں گے اور ہم تمہاری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے۔ یہ سن کر وہ انصاری آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! میرے گھر ایک بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے تو انصار کہتے ہیں ہم تیری کنیت ابوالقاسم نہیں پکاریں گے اور تیری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”انصار نے ٹھیک کہا ہے، میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت مت رکھو، کیونکہ قاسم میں ہوں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1381]
