العربية (الأصل)
1323 صحيح حديث أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ أَبو طَلْحَة لأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا، أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالَتْ: نَعَمْ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا، فَلَفَّتِ الْخُبزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَستْهُ تَحْتَ يَدِي وَلاَثَتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، لَيْسَ عَنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتْ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ فَأَتَتْ بِذلِكَ الْخبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلاً
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) prohibited drinking from the mouth of the water skin.
الترجمة الأردية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے (میری والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی آواز سنی تو آپ کی آواز میں بہت ضعف معلوم ہوا ہے، میرا خیال ہے کہ آپ بہت بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ میں چھپا دیا اور اس اوڑھنی کا دوسرا حصہ میرے بدن پر باندھ دیا، اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں مجھے بھیجا۔ میں گیا تو آپ مسجد میں تشریف رکھتے تھے، آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آپ کے پاس کھڑا ہو گیا تو آپ نے فرمایا:”کیا ابو طلحہ نے تمہیں بھیجا ہے؟“میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے دریافت فرمایا:”کچھ کھانا دے کر؟“میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ جو صحابہ آپ کے ساتھ اس وقت موجود تھے، ان سب سے آپ نے فرمایا:”چلو اٹھو۔“آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لانے لگے اور میں آپ کے آگے آگے لپک رہا تھا حتی کہ میں نے ابو طلحہ کے گھر پہنچ کر انہیں خبر دی۔ ابو طلحہ بولے: ام سلیم! حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلمتو بہت سے لوگوں کو ساتھ لائے ہیں، ہمارے پاس اتنا کھانا کہاں ہے کہ سب کو کھلایا جا سکے؟ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمزیادہ جانتے ہیں (ہم فکر کیوں کریں؟) خیر ابو طلحہ آگے بڑھ کر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمسے جا ملے۔ اب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ وہ بھی چل رہے تھے، (گھر پہنچ کر) آپ نے فرمایا:”ام سلیم! تمہارے پاس جو کچھ ہو یہاں لاؤ۔“ام سلیم نے وہی روٹی لا کر آپ کے سامنے رکھ دی، پھر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم سے روٹیوں کا چورا کر دیا گیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کپی نچوڑ کر اس پر کچھ گھی ڈال دیا اور اس طرح سالن ہو گیا۔ آپ نے اس کے بعد اس پر دعا کی، جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے چاہا، پھر فرمایا:”دس آدمیوں کو بلا لو۔“انہوں نے ایسا ہی کیا۔ ان سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور جب یہ لوگ باہر گئے تو آپ نے فرمایا:”پھر دس آدمیوں کو بلا لو۔“چنانچہ دس آدمیوں کو بلایا گیا، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا۔ جب یہ لوگ باہر گئے تو آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر دس ہی آدمیوں کو اندر بلا لو۔“انہوں نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا۔ جب وہ باہر گئے تو آپ نے فرمایا:”پھر دس آدمیوں کو دعوت دے دو۔“اس طرح سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا، ان لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1323]
