العربية (الأصل)
1206 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ فَغَضِبَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي قَالُوا: بَلَى قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَمَا جَمَعْتُمْ حَطَبًا وَأَوْقَدْتُمْ نَارًا ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِيهَا فَجَمَعُوا حَطَبًا، فَأَوْقَدُوا فَلَمَّا هَمُّوا بِالدُّخُولِ، فَقَامَ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ، قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا تَبِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارًا مِنَ النَّارِ، أَفَنَدْخُلُهَا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذلِكَ إِذْ خَمَدَتِ النَّارُ، وَسَكَنَ غَضَبُهُ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوف
الترجمة الإنجليزية
Ali (may Allah be pleased with him) said: The Prophet (peace be upon him) sent out an expedition and appointed over them a man from the Ansar, commanding them to obey him. He became angry with them and said: "Has not the Prophet (peace be upon him) commanded you to obey me?" They said: "Yes." He said: "I order you to gather firewood and light a fire, then enter it." They gathered firewood and lit a fire. When they were about to enter, they stood looking at one another. Some of them said: "We only followed the Prophet (peace be upon him) fleeing from the Fire - shall we now enter it?" While they were in that state, the fire went out and his anger subsided. When the Prophet (peace be upon him) was told about it, he said: "Had they entered it, they would never have come out of it. Obedience is only in what is right."
الترجمة الأردية
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک فوجی دستہ روانہ کیا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر مقرر فرمایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں۔ پھر امیر فوج کے لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا:”کیا نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے؟“لوگوں نے کہا:”ضرور دیا ہے۔“اس پر انہوں نے کہا:”میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو۔“لوگوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی۔ جب انہوں نے کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا:”ہم نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی فرمانبرداری آگ سے بچنے ہی کے لیے تو کی تھی، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں؟“اسی دوران آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا۔ پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے اس کا ذکر کیا گیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے،«إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ»”اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔““[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1206]
