العربية (الأصل)
1156 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ، رَمَاهُ فِي الأَكْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلاَحَ واغْتَسَلَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللهِ مَا وَضَعْتُهُ، اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِهِ، فَرَدَّ الْحُكْمَ إِلَى سَعْدٍ قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ، وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Aisha (may Allah be pleased with her): Sa'd was wounded on the day of the Battle of the Trench. A man from Quraysh called Hibban ibn al-Ariqah shot him in the median vein of his arm. The Prophet (peace be upon him) pitched a tent for him in the mosque so that he could visit him from nearby. When the Messenger of Allah (peace be upon him) returned from the Trench, he put down his weapons and bathed. Then Jibril (peace be upon him) came to him, shaking the dust from his head, and said: "You have put down your weapons? By Allah, I have not put mine down. Go out to them." The Prophet (peace be upon him) asked: "Where?" He pointed toward Banu Qurayza. So the Messenger of Allah (peace be upon him) went to them, and they surrendered to his judgment. He referred the judgment to Sa'd, who said: "I judge that their fighters be killed and their women and children be taken captive." Sa'd said — and it was mentioned that the Prophet (peace be upon him) said: "You have judged according to the judgment of Allah."
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ غزوۂ خندق کے موقع پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک کافر شخص حبان بن عرقہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کر لگا تھا۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے لیے مسجد میں ایک ڈیرہ لگا دیا تھا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ پھر جب آپصلی اللہ علیہ وسلمغزوۂ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبرئیل علیہ السلام آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے، وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے، انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلمسے کہا کہ آپ نے ہتھیار رکھ دیے، خدا کی قسم! ابھی میں نے ہتھیار نہیں اتارے ہیں، آپ کو ان پر فوج کشی کرنی ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”کن پر؟“تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمبنو قریظہ تک پہنچے (اور یہودیوں نے اسلامی لشکر کے پندرہ دن کے سخت محاصرہ کے بعد) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیے۔ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے سعد رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کا اختیار دیا، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیے جائیں، اور ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1156]
