العربية (الأصل)
1114 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّه يَأْتِينِي الْخَصْمُ، فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَدَقَ فَأَقْضِيَ لَهُ بِذلِكَ؛ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ فَلْيَتْرُكْهَا
الترجمة الإنجليزية
Umm Salamah, the wife of the Prophet (peace be upon him), narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) heard a dispute at the door of his room. He went out to them and said: "I am only a human being, and disputants come to me. Perhaps some of you may be more eloquent than others, so I may consider him truthful and judge in his favor. So whoever is given a judgment that takes away the right of a Muslim, it is only a piece of the Fire. So let him take it or leave it."
الترجمة الأردية
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زوجہ مطہرہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے حجرے کے دروازے کے سامنے جھگڑے کی آواز سنی اور جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لائے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا:”میں بھی ایک انسان ہوں، اس لیے جب میرے یہاں کوئی جھگڑا لے کر آتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ (فریقین میں سے) ایک فریق کی بحث دوسرے فریق سے عمدہ ہو، میں سمجھتا ہوں کہ وہ سچا ہے اور اس طرح میں اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں؛ لیکن اگر میں اس کو اس کے ظاہری بیان پر بھروسا کر کے کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو دوزخ کا ایک ٹکڑا اس کو دلا رہا ہوں، پس چاہے وہ لے لے یا چھوڑ دے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأقضية/حدیث: 1114]
