العربية (الأصل)
111 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّتَاهْ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ فَقَالَتْ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي مِمَّا قُلْتَ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلاَثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرأَتْ(لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ)،(وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ)؛ وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ(وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا)؛ وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ(يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ)الآية؛ وَلكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Do not be envious of one another, do not artificially inflate prices against one another, do not hate one another, do not turn your backs on one another, and do not undercut one another in trade. Be servants of Allah, brothers to one another. A Muslim is a brother to another Muslim: he does not oppress him, he does not forsake him, and he does not despise him. Piety is here" — and he pointed to his chest three times — "It is enough evil for a person to despise his Muslim brother. Every Muslim's blood, wealth, and honor are sacred to another Muslim."
الترجمة الأردية
مسروق رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! کیا سیدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلمنے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے؛ جو شخص یہ کہتا ہو کہ سیدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلمنے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے، پھر انہوں نے ان آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کی:﴿لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾[سورة الأنعام: 103]اسے نگاہیں نہیں پا سکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ تو بہت ہی باریک بین اور بڑی واقف ہے،﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ﴾[سورة الشورى: 51]کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے سوائے اس کے کہ وحی کے ذریعے ہو یا پھر پردے کے پیچھے سے ہو، اور جو شخص تم سے کہے کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمآنے والے کل کی بات جانتے تھے وہ بھی جھوٹا ہے، اس کے لیے انہوں نے آیت:﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا﴾[سورة لقمان: 34]کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا، کی تلاوت فرمائی اور جو شخص تم میں سے کہے کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے تبلیغِ دین میں کوئی بات چھپائی تھی وہ بھی جھوٹا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی:﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾[سورة المائدة: 67]اے رسول! پہنچا دیجیے وہ سب کچھ جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کی رسالت کا حق ادا نہ کیا، ہاں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا تھا (اس تفصیل سے اسی کو ترجیح حاصل ہوئی کہ آپ نے شب معراج میں ان آنکھوں سے اللہ کو نہیں دیکھا، واللہ اعلم)۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 111]
