العربية (الأصل)
1087 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عَدَا يَهُودِيٌّ، فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا، وَرَضَخَ رَأْسَهَا؛ فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِي آخِرِ رَمَقٍ، وَقَدْ أُصْمِتَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَكِ، فُلاَنٌ لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ قَالَ، فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا فَأَشَارَتْ أَنْ لاَ، فَقَالَ: فَفُلاَنٌ لِقَاتِلِهَا فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ؛ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْن
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever says 'SubhanAllahi wa bihamdihi' (Glory and praise be to Allah) one hundred times a day, his sins will be wiped away even if they were like the foam of the sea."
الترجمة الأردية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے زمانے میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے پوچھا:”تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا، اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”فلاں نے تمہیں مارا ہے؟“تو اس لڑکی نے سر کے اشارے سے ہاں کہا۔ (اس کے بعد اس یہودی نے بھی اس جرم کا اقرار کر لیا) تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے لیے حکم دیا اور اس آدمی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1087]
