العربية (الأصل)
1053 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلاَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ: لاَ فَقُلْتُ: بِالشَّطْرِ فَقَالَ: لاَ ثُمَّ قَالَ: الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ أَوْ كَثِيرٌ، إنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللهِ إِلاَّ أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً صَالِحًا إِلاَّ ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، ثُمَّ لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لكِنَ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ، يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ
الترجمة الإنجليزية
Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace be upon him) used to visit me during the year of the Farewell Pilgrimage because of a severe illness. I said: "I am very ill and I am wealthy, and no one inherits from me except a daughter. Shall I give two-thirds of my wealth in charity?" He said: "No." I said: "Half?" He said: "No." Then he said: "One-third, and one-third is much (or large). It is better for you to leave your heirs rich than to leave them poor, begging from people."
الترجمة الأردية
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمحجۃ الوداع کے سال (۱۰ھ میں) میری عیادت کے لیے تشریف لائے، میں سخت بیمار تھا، میں نے کہا کہ میرا مرض شدت اختیار کر چکا ہے، میرے پاس مال و اسباب بہت ہے اور میری صرف ایک لڑکی ہے جو وارث ہوگی، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کو خیرات کر دوں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں“، میں نے کہا: آدھا؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ایک تہائی کر دو اور یہ بھی بڑی خیرات ہے یا بہت خیرات ہے، اگر تو اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ محتاجی میں انہیں اس طرح چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، یہ یاد رکھو کہ جو خرچ بھی تم اللہ کی رضا کی نیت سے کرو گے تو اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا، حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو۔“پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرے ساتھی تو مجھے چھوڑ کر (حجۃ الوداع کے لیے) مکہ جا رہے ہیں اور میں ان سے پیچھے رہ رہا ہوں، اس پر آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہاں رہ کر بھی اگر تم کوئی نیک عمل کرو گے تو اس سے تمہارے درجے بلند ہوں گے اور شاید ابھی تم زندہ رہو گے اور بہت سے لوگوں کو (مسلمانوں کو) تم سے فائدہ پہنچے گا اور بہتوں کو (کفار و مرتدین کو) نقصان۔“(پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دعا فرمائی)«اللّٰهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ»”اے اللہ! میرے ساتھیوں کو ہجرت پر استقلال عطا فرما اور ان کے قدم پیچھے کی طرف نہ لوٹا“لیکن مصیبت زدہ سعد بن خولہ تھے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے مکہ میں وفات پا جانے کی وجہ سے اظہارِ غم کیا تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الوصية/حدیث: 1053]
