العربية (الأصل)
عَنْيُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِيأَبُو الْوَدَّاكِ، حَدَّثَنِيأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ:أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ خَيْبَرَ، فَكُنَّا نَعْزِلُ عَنهُنَّ، وَنَحْنُ نَلْتَمِسُ مَنْ يُقَادُ بِهِنَّ مِنْ أَهْلِيهِنَّ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: تَعْمَلُونَ هَذَا وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُوهُ فَسَلُوهُ، فَأَتَيْنَاهُ فذَكَرْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ، إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا كَانَ"، قَالَ: فَمُرَّ بِالْقُدُورِ وَهِيَ تَغْلِي، فَقَالَ لَنَا:" مَا هَذَا اللَّحْمُ؟" قُلْنَا: لُحُومُ الْحُمُرِ، قَالَ:" أَهْلِيَّةٌ أَوْ وَحْشِيَّةٌ؟" قُلْنَا: لا، بَلْ هِيَ أَهْلِيَّةٌ، قَالَ لَنَا:" فَاكْفُوهَا"، فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ نَشتَهِيهَا، قَالَ: وَكُنَّا يَوْمَهَا نُوكِي الأَسْقِيَةَ.
الترجمة الإنجليزية
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Your smiling in the face of your brother is charity. Your enjoining good and forbidding evil is charity. Your guiding a person who is lost is charity for you. Your removing stones, thorns, and bones from the road is charity for you."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خیبر والے دن لونڈیوں کو پہنچے، ہم ان سے عزل کرتے تھے اور ہم تلاش کر رہے تھے کہ ان کے گھر والوں میں سے کون ان کا فدیہ دیتا ہے، تو ہمارے بعض نے بعض سے کہا کہ تم یہ کر رہے ہو اور تمہارے اندر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمموجود ہیں؟ سو ہم آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے یہ ذکر کیا گیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہر پانی سے بچہ نہیں ہوتا، جب اللہ کسی کام کا فیصلہ کر دیتا ہے تو ہو جاتا ہے۔“کہا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمہنڈیوں کے پاس گزرے اور وہ جوش مار رہی تھیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ کیا گوشت ہے؟“ہم نے کہا کہ گدھوں کا گوشت ہے، فرمایا:”گھریلو یا جنگلی؟“ہم نے کہا کہ نہیں بلکہ گھریلو ہیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں فرمایا:”ان کو انڈیل دو۔“تو ہم نے انہیں انڈیل دیا اور بے شک ہم بھوکے تھے، ان کی خواہش رکھتے تھے، کہا کہ اور ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم مشکیزوں کے منہ ڈوری سے باندھ کر رکھیں۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 198]
