العربية (الأصل)
أناسُفْيَانُ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْمُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ عَذْقِ نَخْلَةٍ، فَمَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا، فَقِيلَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ لَهُ مِنْ وَلَدٍ أَوْ حَمِيمٍ؟"، قَالُوا: لا، قَالَ:" فَانْظُرُوا بَعْضَ أَهْلِ قَرْيَتِهِ، فَادْفَعُوهُ إِلَيْهِ".
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "The example of a good companion and a bad companion is like the example of a seller of musk and a blacksmith. As for the seller of musk, either he will give you some, or you will buy some from him, or you will smell a pleasant fragrance from him. And as for the blacksmith, either he will burn your clothes, or you will smell a foul odor from him."
الترجمة الأردية
سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بے شک نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکا آزاد کردہ غلام کھجور خرما کی شاخیں کاٹ رہا تھا کہ گر کر مر گیا اور کچھ وراثت چھوڑ گیا، یہ بات نبیصلی اللہ علیہ وسلمکو بتائی گئی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا اس کی کوئی اولاد یا دوست ہے؟“انہوں نے کہا کہ نہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس کے بعض بستی والے کو دیکھو اور اس (مال) کو اس کے سپرد کر دو۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 177]
