العربية (الأصل)
عَنْحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُأَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ فَقَالَ: خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا يَعْقِلُونَ".
الترجمة الإنجليزية
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Allah wills mercy for a people, He takes their Prophet before them and makes him a forerunner and a precursor for them. And when He wills the destruction of a people, He punishes them while their Prophet is alive, and destroys them while he watches, and cools his eyes by their destruction when they rejected him and disobeyed his command."
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس رات مجھے سیر کروائی گئی، میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا، ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا کہ جبریل علیہ السلام! یہ کون ہیں؟ فرمایا: آپصلی اللہ علیہ وسلمکی امت کے وہ خطیب جو لوگوں کی نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنی جانوں کو بھول جاتے تھے اور وہ کتاب (بھی) پڑھتے تھے، کیا پس وہ عقل نہیں کرتے۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 142]
