العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى أَبُو الْمُعَلَّى، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ فَذَكَرُوا الْكَلْبَ وَالْحِمَارَ وَالْمَرْأَةَ فَقَالَ مَا تَقُولُونَ فِي الْجَدْىِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُصَلِّي يَوْمًا فَذَهَبَ جَدْىٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَبَادَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْقِبْلَةَ .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Hasan Al-‘Urani said:‘Mention was made in the presence of Ibn ‘Abbas about what severs the prayer. They mentioned a dog, a donkey and a woman. He said: ‘What do you say about kids (young goats)? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was performing prayer one day, when a kid came and wanted to pass in front of him. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) preceded it toward the Qiblah. (to tighten the space and prevent it from passing in front of him).’”
الترجمة الأردية
حسن عرنی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کتے، گدھے اور عورت کا ذکر کیا، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پوچھا: تم لوگ بکری کے بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ایک دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو بکری کا ایک بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے ۱؎۔
