العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ أَنْ يُؤَذِّنَ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَطِيرٌ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . ثُمَّ قَالَ نَادِ فِي النَّاسِ فَلْيُصَلُّوا فِي بُيُوتِهِمْ . فَقَالَ لَهُ النَّاسُ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ قَالَ قَدْ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي تَأْمُرُنِي أَنْ أُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ بُيُوتِهِمْ فَيَأْتُونِي يَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَى رُكَبِهِمْ .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from ‘Abdullah bin Harith bin Nawfal that Ibn ‘Abbas commanded the Mu’adh-dhin to call the Adhan one Friday, which was a rainy day. He said:“Allahu Akbar, Allahu Akbar, Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu anna Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)an Rasulullah (Allah is the Most Great, Allah is Most Great, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) is the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)).” Then he (Ibn ‘Abbas) said: “Proclaim to the people that they should pray in their houses.” The people said to him: “What is this that you have done?” He said: “One who is better than me did that. Are you telling me that I should bring the people out of their houses and make them come to me wading through the mud up to their knees?”
الترجمة الأردية
عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مؤذن کو جمعہ کے دن اذان دینے کا حکم دیا، اور یہ بارش کا دن تھا، تو مؤذن نے کہا:«الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله»، پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: «حي على الصلاة، حي على الفلاح» کی جگہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کر لیں، لوگوں نے یہ سنا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہنے لگے آپ نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے کہا: یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے، جو مجھ سے افضل تھی، اور تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالوں کہ وہ میرے پاس جمعہ کے لیے اپنے گھٹنوں تک کیچڑ سے لت پت آئیں۔
