العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} قَالَ الزُّبَيْرُ وَأَىُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ الأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ . قَالَ " أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ " .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from ‘Abdullah bin Zubair bin ‘Awwam that his father said:“When the following was reveled: “Then on that Day you shall be asked about the delights (you indulged in, in this world)! [102:8] Hadrat Zubair said: ‘What delights shall we be asked about? It is only the two black ones, dates and water.’ He said: ‘It is going to happen.’”
الترجمة الأردية
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت: «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ( سورة اتكاثر: 8 ) نازل ہوئی، تو انہوں نے کہا: کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ یہاں تو صرف دو کالی چیزیں: پانی اور کھجور ہی میسر ہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب نعمتیں حاصل ہوں گی ۔
